سيدنا عبيدالله ابن عباس رض

 *سیرت حضرت سیدنا عبیدالله ابن عباس ابن عبدالمطلب رضي الله تعالی عنه* 

*سيد الاسخياء السيدنا عبيدالله الجواد* 


از اسامه علی عباسی

مؤرخ الاسلامیه و علم الانساب 

عباسی الخراسانی از اسامہ علی عباسی سے ماخوذ

حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے چچا جان سیدنا عباس ابن عبدالمطلب رض کے لاڈلے فرزند السیدنا عبیداللہ الجواد رضی اللہ تعالی عنہ - آپ کا نام مبارک 'عبیدالله' (الله کا خادم) تھا۔ آپکا لقب الجواد ہے۔ آپکی پیدائش قریبا 622 عیسوی میں غزوہ بدر سے چند عرصہ قبل ہوئی۔ آپ عمر میں اپنے بھائی حبر الامه سيدنا عبدالله ابن عباس رض، سے چند سال چھوٹے تھے۔ آپ کے والد کا نام عباس ابن عبدالمطلب رض تھا جبکہ آپ کی والدہ کا نام ام فضل لبابہ بنت حارث تھا جو کہ ام المومنین حضرت خدیجتہ الکبری علیہ السلام کے بعد اسلام لانے والی دوسری خاتون تھی۔ آپ کی والدہ اُم الفضل اور ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث علیہ السلام حقیقی بہنیں تھیں۔


امام حاکم رح نے اپنی مستدرک میں لکھا ہے کہ

عباس بن عبد المطلب رض کو اپنی اولاد میں سے عبیدالله سب سے زیادہ محبوب و پیارے تھے ۔ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم  کو اپنے چچا حضرت عباس ابن عبدالمطلب رض کے بچوں سے بہت محبت و الفت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر نہایت شفقت فرماتے تھے۔ با رہا ایسا ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبد اللہ بن عباس، عبید اللہ ابن عباس اور کثیر بن عباس کو بلایا اور ان سے فرمایا بچو! تم میں سے جو سب سے پہلے مجھے ہاتھ لگائے گا، میں اس کو فلاں چیز دوں گا۔  تینوں بھائی دوڑ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جاتے۔ کوئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سینہ مبارک سے چمٹ جاتا، کوئی پشت مبارک پر چڑھ جاتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب کو سینہ سے لگاتے اور خوب پیار کرتے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال 11ھ کے بعد عبیدالله ابن عباس نے اپنے والد عباس بن عبد المطلب اور والدہ ام فضل لبابہ بنت حارث کے علم و فضل سے استفادہ کیا اور تعلیم و تربیت حاصل کی۔


عبد الله صفوان بن امیہ کا بیان ہے کہ میرا گزر مکہ کی ایک گلی سے ہوا تو میں نے ایک دروازے پر لوگوں کے ہجوم کو دیکھا، معلوم ہوا کہ یہ تمام لوگ سيدنا عبد الله بن عباس سے تفسیر و حدیث اور فقہ حاصل کرنے کے لیے جمع ہیں۔ میں یہ منظر دیکھ کر آگے روانہ ہوا تو میں نے ایک وسیع مکان میں لوگوں کی آمد و رفت ملاحظہ کی، معلوم ہوا کہ یہ عبیدالله بن عباس رض کا مکان ہے جہاں غرباء و مساکین کو مفت کھانا کھلایا جاتا ہے۔ جب عبیدالله اور آپ کے بھائی عبد الله بن عباس مدینہ منورہ آئے تو آپ کے بھائی آپ کے علم میں اضافہ کرتے اور آپ ان کی سخاوت میں وسعت دیتے۔


روایت ہے کہ ایک بار عبیداللہ ابن عباس رض ایک سفر میں اپنے غلام کے ساتھ ایک عرب بدو کے خیمے میں اترے۔ سیدنا عبیداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نہایت وجہیہ و خوبصورت تھے۔ عرب بدو نے آپ کو دیکھ کر آپ کا اعزاز و اکرام کیا اور اس نے آپ کی شکل و صورت اور حسن و جمال دیکھ کر اپنی بیوی سے کہا، تو ہلاک ہو جائے تمہارے پاس ہمارے اس خوبرو مہمان کے لیے کیا چیز ہے؟؟؟؟

اس نے کہا ہمارے پاس صرف یہ بکری ہے، جس کے دودھ سے تمہاری بچی کی زندگی ہے، اس نے کہا اس کو ضرور ذبح کرنا ہے، اس نے کہا کیا تو اپنی بیٹی کو قتل کر دےگا؟ اس نے کہا خواہ ایسا ہی ہو، پس اس نے چھری لی اور بکری کو پکڑا اور اسے ذبح کرنے اور اس کی کھال اتارنے لگا اور وہ رجزیہ اشعار پڑھنے لگا،


"اے میری پڑوسن! چھوٹی بچی کو نہ جگانا، اگر تو اسے جگائے گی، تو وہ روئے گی اور میرے ہاتھ سے چھری چھین لے گی"۔


پھر اس نے کھانا تیار کرکے حضرت عبید اللہ ابن عباس اور ان کے غلام کے آگے رکھ دیا اور دونوں کو شام کا کھانا کھلا دیا۔

آپ نے عرب بدو کی ساری گفتگو سن لی تھی جو اس نے بکری کے بارے میں اپنی بیوی سے کی تھی اور جب آپ نے کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے غلام سے فرمایا تو ہلاک ہو جائے تیرے پاس کتنا مال ہے؟

اس نے کہا آپ کے خرچ سے پانچ سو دینار بچ گئے ہیں، آپ نے کہا یہ اس عرب بدو کو دے دو، اس نے کہا سبحان الله، آپ اس کو پانچ سو دینار دیتے ہیں حالانکہ اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی ہے جس کی قیمت پانچ درہم کے برابر ہے.

آپ نے فرمایا تو ہلاک ہو جائے قسم بخدا وہ ہم سے زیادہ سخی ہے اس لیے کہ ہم نے اسے اپنی ملکیت کا کچھ حصہ دیا ہے اور اس نے اپنی ساری ملکیتی پونجی ہمیں بخش دی ہے اور اس نے اپنی جان اور اپنے بچوں پر ہمیں ترجیح دی ہے۔ 


حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے اپنے دور خلافت میں سیدنا عبید اللہ بن عباس کو 36ھ اور 37ھ میں امیر حج مقرر کیا۔ لوگوں نے ان دو سالوں میں آپ کی امارت میں حج ادا کیا۔ سیدنا عبیداللہ ابن عباس رض کا شمار حضرت علی رض کے قریبی رفقاء اور حامیان میں ہوتا تھا اور حضرت علی ابن ابی طالب رض نے اپنے دور خلافت میں سیدنا عبیداللہ ابن عباس رض کو ملک یمن کا گورنر مقرر کیا تھا۔ سیدنا عبیداللہ ابن عباس رض نے امام حسن علیہ السلام کی خلافت کی حمایت کی مگر بعد میں امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت و سیادت کو تسلیم کرلیا۔ اس کے بعد سیدنا عبید اللہ ابن عباس رض نے گوشہ نشینی اختیار کر لی اور باقی زندگی خاموشی سے گزار دی۔ آپکے بڑے بھائی سیدنا عبداللہ ابن عباس کی تاریخ وفات 67 ہجری درج ملتی ہے جو کہ عیسوی سال کی نسبت 689 عیسوی بنتی ہے مگرعبیداللہ ابن عباس کی تاریخ وفات کے متعلق متعدد روایت ملتی ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق حضرت عبیداللہ ابن عباس کی وفات انکے بڑے بھائی عبداللہ سے پہلے بمطابق 58بجری، 680 عیسوی میں ہوئی جبکہ بعض نے انہیں عبداللہ ابن عباس کی وفات کے بعد تحریر کیا ہے۔ آپ سے چند احادیث مروی ہیں جو آپ کے بیٹے عبد الله ابن عبیدالله اور ابن سیرین نے روایت کی ہیں۔

 

سیدنا عبید الله ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ جس خانوادۂ علم و عمل کے چشم و چراغ تھے، اس کے اعتبار سے انکا کوئی خاص علمی پایہ نہ تھا، آنحضرتﷺ کے عہد میں آپ بہت کم سن بچے تھے، اس لیے براہ راست آپ سے سماعِ حدیث کا موقع نہ ملا تاہم حدیث کی کتابوں میں ان کی مرویات ملتی ہیں اور انہوں نے اپنے والد بزرگوار حضرت عباسؓ ابن عبدالمطلب رض سے اور ان سے انکے بیٹے عبد الله ابن عبیداللہ اور ابن سیرین نے روایت کی ہے۔

حضرت عباسؓ ابن عبدالمطلب علیہ السلام کے تمام لڑکوں میں کوئی نہ کوئی نمایاں وصف اورکمال موجود تھا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فضل و کمال اور علم میں یکتائے عصر تھے، سیدنا فضل ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ حسن وجمال میں یگانہ تھے تو سیدنا عبیداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فیاضی اور دریادلی میں بے نظیر تھے، ان کے دسترخوان کے لیے ایک اونٹ روزانہ ذبح ہوتا تھا۔  جب یہ دونوں بھائی ایک ساتھ مدینہ میں ہوتے تو ایک طرف تشنگان علم کے لیے عبداللہ ابن عباس کے یہاں علم کا دریا بہتا تو دوسری طرف بھوکوں و مسکینوں کے لیے عبید اللہ ابن عباس کے یہاں صلائے عام ہوتی۔


حضرت سیدنا عبیداللہ ابن عباس رض کے کل 5 بیٹے ہوئے جو آپکی مختلف زوجہ کے بطن سے تھے جن میں عبدالله، عباس، جعفر، طلحہ اور محمد جبکہ دو بیٹیاں عالیہ اور لبابة الکبری تھی۔ عباسی تحریک کے بانی و خلفاء بنو عباس کے جدامجد امام محمد الکامل بن علی السجاد بن حبر الامہ عبدالله ابن عباس رض کی والدہ محترمہ حضرت عبیداللہ ابن عباس کی بیٹی عالیہ بنت عبیداللہ رض تھی، بایں وجہ عالیہ بنت عبیداللہ،خلفاء بنو عباس خلیفہ اول ابو عباس عبداللہ السفاح اور خلیفہ ابو جعفر المنصور کی دادی جان تھی۔ سیدنا عبیداللہ ابن عباس رض کی دوسری بیٹی لبابة الکبری رض کا نکاح حضرت علی ابن ابی طالب رض کے فرزند حضرت عباس علمدار الشھید سے ہوا جنکے بطن سے عبیداللہ ابن عباس الشھید ہوئے اور آپکی نسل بھی اسی بیٹے عبیداللہ سے چلی ہے۔ علم الانساب کی مشہور و بنیادی کتب جذواۃ الاقتباس فی نسب بنی عباس اور مشجرات الزکیہ فی انساب بنو ھاشم، بنو ھاشم از الشیخ حسن الحسینی اور دیگر انساب کی کتب میں سیدنا عبیداللہ ابن عباس رض اولاد کا تفصیلی بیان موجود ہے جس میں حضرت عبیداللہ ابن عباس کے پانچ بیٹے درج ملتے ہیں۔ آپکے بیٹے عبداللہ ابن عبیداللہ کے ہاں کے 4 فرزند ہوئے جن میں حسن، حسین، ابراھیم اور عبدالعزیز شامل ہیں۔ حضرت عبیداللہ کے دوسرے بیٹے عباس ابن عبیداللہ کے ہاں قثم، عباس، سلیمان، داؤد، ام جعفر ، میمونہ، عبداللہ و عالیہ ہوئے حضرت عبیداللہ کے تیسرے بیٹے جعفر بن عبیداللہ کے ہاں معبد، عبداللہ اور محمد ہوئے۔ حضرت عبیداللہ کے چوتھے بیٹے طلحہ ابن عبیداللہ کے آگے عیسی بن طلحہ اور عیسی کے محمد اور محمد کے آگے پھر محمد ہوئے۔  حضرت عبیداللہ ابن عباس رض کے پانچویں اور سب سے چھوٹے بیٹے محمد ابن عبیداللہ تھے جنکے ہاں 5 فرزندان ہوئے جن میں  عبدالله ، عبدالرحمان،  فضل، سلیم اور سعید شامل ہیں۔ آپکی اولاد عراق، وسطی ایشیائی ممالک ثمرقند و بخارا، پاکستان ، خراسان( افغانستان و ایران کے سرحدی علاقوں)، حجاز مقدس مدینہ منورہ، یمن، شام اور شمالی افریقہ کے ممالک مراکش اور چاڈ میں آباد ھے۔ آپکی اولاد کی غالب اکثریت ملک یمن اور اطراف حجاز مدینہ منورہ میں آباد ہے۔ سیدنا عبیداللہ ابن عباس رض کو مدینہ منورہ میں دفن کیا گیا اور آپکی قبر مبارک مدینہ منورہ میں ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تاریخ خاندان عباسیہ شمالی پاکستان

سپہ سالار غیاث الدین ضراب شاہ

Dhund Abbasi History