سادات بنو ھاشم سے مراد کون؟

 *سادات العرب، سادات بنی ہاشم سے مراد کون ہیں؟* 

*الموسوم به السلام علی اولاد السیدنا عبدالمطلب، جد رسول الله* 


*از اسامہ علی عباسی*

*مؤرخ الاسلامیہ و علم الانساب*

*نقیب العباسیین شمالی پاکستان*  


حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے پردادا جان حضرت السید ہاشم علیہ السلام، عرب کے معزز قبیلہ قریش کے خاندان بنی ہاشم کے جدامجد اور مورث اعلی ہیں۔ حضرت السید ہاشم علیہ السلام سے قبیلہ بنو ہاشم موسوم ہے، آپکے کل 4 بیٹے ہوئے جن میں سے آپکی نسل صرف آپکے فرزند حضرت السید عبدالمطلب علیہ السلام سے چلی ہے جو کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے دادا جان ہیں، لہذا اسی بناء پر عرب مؤرخین و علماء کرام کا یہ قول مشہور ہے کہ 

"ليس في الارض هاشمي الا من عبد المطلب عليه السلام". 

"روئے زمین پر "ہاشمی" فقط اولاد عبدالمطلب علیہ السلام ہے جن کی سیادت نسبی و شرافت کی بناء پر ان پر صدقہ واجبہ و زکوۃ حرام ہے".


حضور اکرم کے دادا جان حضرت السید عبدالمطلب علیہ السلام کے کل گیارہ بیٹے اور چھ بیٹیاں تھی۔ حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کے بیٹے حضرت عبداللہ علیہ السلام کے فرزند ارجمند نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہوئے اور حضرت فاطمہ الزہرا رض کی نسبت آپکی اولاد و نسل چلی جسکو حضرت علی ابن ابی طالب ابن عبد المطلب کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کی فاطمی اولاد کہا جاتا ہے، جنکو عرف عام میں "سادات کرام" کہا جاتا ہے اور یہ تمام قبائل بنی ہاشم میں نسب کے لحاظ سے سب سے اعلی و افضل ہیں۔ 


حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی نسل بھی صرف انکے تین بیٹوں سے چلی ہے جنکی اولاد ہاشمی ہے اور سادات بنی ہاشم ہے۔ 

1_ *حضرت حارث ابن عبدالمطلب*

2_ *حضرت عباس ابن عبدالمطلب* 

3_ *حضرت ابو طالب ابن عبدالمطلب* 


حضرت ابو طالب کے 3 بیٹوں کی اولاد: 

حضرت علی ابن ابی طالب ابن عبدالمطلب (فاطمی اولاد اور غیر فاطمی اولاد اعوان و علوی) 

حضرت جعفر ابن ابی طالب ابن عبدالمطلب 

حضرت عقیل ابن ابی طالب ابن عبدالمطلب 

ان تین بیٹوں سے اولاد حضرت ابو طالب ابن عبدالمطلب چلی اور یہ تین خاندان ہاشمی ہیں۔

 

حضرت عباس ابن عبدالمطلب، قبیلہ بنو عباس (عباسی خاندان) کے جدامجد و مورث اعلی ہیں، اور انکی اولاد بھی ہاشمی اور سادات بنی ہاشم ہے۔ 


حضرت حارث ابن عبدالمطلب کی اولاد بھی چلی اور یہ خاندان بھی ہاشمی ہیں۔ 


*مختصرا*

بنی ہاشم سے مراد حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی اولاد ہے اور بنی ہاشم کے کل پانچ خاندان ہیں؛ 


*آل علی ابن ابی طالب ابن عبدالمطلب*

(سادات فاطمیه الهاشميه)

(سادات العلوية الهاشميه ) 


*آل عباس ابن عبدالمطلب*

 (سادات العباسیه الهاشميه)


*آل جعفر ابن ابی طالب ابن عبدالمطلب* 

(سادات الجعفریه الهاشمیه) 


*آل عقیل ابن ابی طالب ابن عبدالمطلب*

(سادات العقيليه الهاشميه)

 

 

*آل حارث ابن عبدالمطلب*

(سادات الحارثیه الهاشميه)

_________________________


*کیا علوی ، ہاشمی ، عباسی ، جعفری، عقیلی، حارثی بھی سادات میں شامل ہیں؟*

*سادات العرب کون؟* 



دور اول میں لفظ "السید" کا لفظ تمام بنو ہاشم یعنی اولاد عبدالمطلب علیہ السلام کے لئے استعمال ہوا کرتا تھا چاہے وہ علوی ہوں یا عباسی، جعفری ہوں یا عقیلی، اس میں اولادِ فاطمی کی تخصیص نہیں ہوتی تھی، عرب کے بعض شہروں میں اسے علوی اولاد اور بعض میں عباسی اولاد کے لئے بھی السید یا الشریف کے القابات کا استعمال کیا گیا جسکے معانی معزز و سردار کے ہیں لیکن بعد کے زمانے میں یہ لفظ سیدنا امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنھما کی اولاد کے لئے مختص ہوگیا جو کہ سادات فاطمیہ الھاشمیہ ہیں اور اب موجودہ دور میں لفظ "سید" کا اطلاق نبئ رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے انہی دو مبارک نواسوں اور ان سے جاری تمام اولاد پر کیاجاتا ہے۔ انہیں فاطمی اولاد بھی کہتے ہیں۔


"السیّد" عربی زبان کالفظ ہے جوکہ لغۃً متعدد معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ لسان العرب میں ہے : 


*والسید یطلق علی الرب والمالک والشریف والفاضل والکریم والحلیم ومحتمل أذ قومہ والزوج والرئیس والمقدم، وأصلہ من ساد یسود فہو سیود*۔

ترجمہ : یعنی لفظ سید کا اطلاق ،مالک ،شرافت دار، علم والے، عزت والے، بردبار ، اپنی قوم سے تکلیف کو دور کرنے والے ، قوم کے سردار اور پیشوا پر ہوتا ہے۔

(لسان العرب ۔ جلد نمبر 03 ۔ صفحہ 228 ۔ دار صاد ۔ بیروت لبنان)


 امام جلال الدین سیوطی رح، اپنے رسالہ العجاجة الزرنبیة فی السلالة الزینبیه میں لکھتے  ہیں : 

"إن اسم الشریف کان یطلق فی الصدر الأول علی کل من کان من أہل البیت سواء کان حسنیا أم حسینیا أم علویا، من ذریۃ محمد بن الحنفیۃ من أولاد علی بن أبی طالب، أم جعفریا أم عقیلیا أم عباسیا۔ فلما ولی الخلفاء الفاطمیون بمصر قصروا اسم الشریف علی ذریۃ الحسن والحسین فقط، فاستمر ذلک بمصر إلی الآن"۔

ترجمہ : یعنی بے شک سیّد کا اطلاق قرونِ اولی میں ہر اُس شخص پر ہوتا تھا جو اہلِ بیت کرام سے ہو، چاہے وہ حسنی ہو ،حسینی ہو ،یا علوی ہو یا محمد بن حنفیہ کی اولاد اور دیگر اولادِ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے، یا جعفری ہو یا عقیلی ہو یا عباسی ہو۔ جب مصر میں شیعہ خلفاءِ فاطمیین کو حکومت ملی تو انہوں نے سیّد کا لفظ فقط امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی اولاد کے لئے مختص کردیا تو یہ تخصیص اس دور سے اب تک قائم ہے ۔

 (الحاوی للفتاوی للسیوطی۔ جلد نمبر 02 ۔ صفحہ39 ۔ دارالفکر ۔ بیروت لبنان)


امام شمس الدین سخاوی رح فرماتے ہیں کہ عمر بن احمد بن یوسف العباسی الحلبی الحنفی، سید نشابی کے نام سے معروف ہیں ان علاقوں کی اصطلاح کے مطابق لفظ سید کے اطلاق میں اولادِ فاطمی کی تخصیص نہیں کرتے بلکہ بنی عباس (عباسی) بلکہ تمام بنی ہاشم پر سید کا اطلاق کرتے ہیں۔

 (الضوء اللامع لأهل القرن التاسع ۔ جلد نمبر 06 ۔ صفحہ 73 ۔ منشورات دار مكتبة الحياة – بيروت)۔ 


 امام ابن حجر عسقلانی رح فرماتے ہیں کہ:

"الشريف هُوَ سُلَيْمَان بن يزِيد الْأَزْدِيّ ولقب بِهِ كل عباسي بِبَغْدَاد وَكَذَلِكَ كل علوي بِمصْر."

ترجمہ:

 سلیمان بن یزید الازدی، سید ہیں اور بغداد میں ہر عباسی کا لقب سید ہے اور اسی طرح مصر میں ہر علوی کا۔ 

(نزهة الألباب في الألقاب ۔ جلد 01 ۔ صفحہ 399 ۔ مكتبة الرشد - الرياض)


فتاوی اہلسنت میں ہے : حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کی جو اولاد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ہیں (اولاد حسنین کریمین رضی اللہ عنہما) کی اولاد کو سید کہا جاتا ہے، ہر سید ہاشمی ضرور ہے مگر ہر ہاشمی سید ہو یہ ضروری نہیں۔

(فتاوی اہلسنت ۔ کتاب الزکوۃ ۔ صفحہ 425 ۔ مکتبۃ المدینۃ ۔ کراچی)


*بنو ہاشم* (جن پر زکوٰة حرام کی گئی ہے) سے مراد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اولاد (خواہ وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ہوں یا دوسری ازواج کے بطن سے غیر فاطمی اولاد)، حضرت عباس بن عبد المطلب (عباسی)، جعفر بن ابی طالب (جعفری)، عقیل بن ابی طالب (عقیلی) اور حارث بن عبد المطلب رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اولاد ہیں، ان کے علاوہ بنو ہاشم  کے دیگر ذیلی قبائل، جیسے ابو لہب کی اولاد وغیرہ ان میں سے جو مسلمان ہوگئے تھے ان پر زکوٰة حرام نہیں ہے۔ پس صورتِ مسئولہ میں  نہ تمام بنو ہاشم پر زکوٰة لینا حرام ہے اور نہ ہی تمام کے لیے لینا حلال ہے، البتہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تمام اولاد خواہ حسنی ہوں یا حسینی، علوی، یا اعوان، ان سب کے لیے زکوٰة لینا حرام ہے، اسی طرح سے ہر عباسی، جعفری، آل عقیل (جو عقیلی کہلاتے ہیں) اور آل حارث (جو حارثی کہلاتے ہیں) کے لیے زکوٰة و صدقہ واجبہ لینا حرام ہے"۔


بنی ہاشم میں سے حضرت علی، حضرت جعفر، حضرت عباس، حضرت عقیل اور حضرت حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہم کی اولاد سب ’’سادات‘‘  ہیں۔  ان سب کے نام کے ساتھ ’’سید‘‘  لگانا جائز ہے، لیکن عرف عام میں ’’سید‘‘ کی اصطلاح حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس اولاد کے لیے مشہور ہوچکی ہے جو سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے بطن سے ہیں، لہذا دیگر کے لیے اپنے نام کے ساتھ  ’’سید‘‘  لگانا مناسب نہیں ہے، خصوصاً جہاں اشتباہ ہو، کیوں کہ یہ ان کی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبی نسبت کی علامت ہے؛ لہٰذا صرف حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی نسل سے آنے والے گھرانوں کو اپنے نام کیساتھ ’’سید‘‘ لکھنا اور کہنا چاہیے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تاریخ خاندان عباسیہ شمالی پاکستان

سپہ سالار غیاث الدین ضراب شاہ

Dhund Abbasi History