جنگ آزادی میں خطہ کوھسار کا کردار

 *کوہسار کے حریت پسند، تاریخ کے آئینہ میں*

*جنگ آزادی میں خطہ کوہسار کا کردار* 


*آزادی نعمت خداوندی*

*از اسامہ علی عباسی* 

*بالتاریخ 14 اگست 2022ء* 

*بیروٹ کلاں، کوہالہ مری* 

آزادی نعمت خداوندی ہے جسکے حصول میں ہزاروں لوگوں کی کوششیں و قربانیاں شامل ہوتی ہیں۔ آزادی ہمیشہ جہد مسلسل اور خون کی طلبگار رہی ہے جس میں ہزاروں لوگوں نے اپنی جان کے نزرانے پیش کرکہ اس کو حاصل کیا۔ خطہ کوہسار کا آزادی کے حصول میں کیا کردار رہا اسکو جاننے کے لیے ہمیں ماضی کے جھرونکوں میں جھانکنا پڑھتا ہے کہ جب پہاڑ کے غیرتمند باسیوں اور ڈھونڈ عباسیوں نے وقت کے فرعونوں کے خلاف علی الاعلان علم جہاد بلند کیا اور انکے خلاف صف اول میں مدمقابل میدان حرب میں نظر آئے۔ خطہ کوہسار و سرکل بکوٹ کی تاریخ کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ خطہ کسی زمانے میں قدیم ریاست کشمیر کے خطہ پونچھ کا حصہ ہوا کرتا تھا مگر ان علاقوں میں قبائلی حیثیت برقرار رہتی تھی اور یہ کسی بھی قسم کی ریاستی عمل دخل سے آزاد رہے ہیں۔ یہ نیم خودمختاری اس وقت متاثر ہوئی جب 1800ء کے قریب پنجاب سے رنجیت سنگھ خطہ پوٹھوہار پر حملہ آور ہوا اور پوٹھوہار کے آخری گکھڑ سلطان اسکے مقابلے میں شہید ہوئے، اس طرح پوٹھوہار کا خطہ سکھوں کے زیر قبضہ چلا گیا۔ پوٹھوہار میں کامیابی کیبعد رنجیت سنگھ کے چہیتے ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ نے خطہ کوہسار و مشرقی ہزارہ پر اپنا تسلط قائم کرنا شروع کیا جس پر اس وقت کے فرعون کے خلاف پہاڑ و کوہسار کے غیرتمندان برسر میدان حرب اسکے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہوئے۔ ڈوگرہ سرکار جموں سے ہوتی ہوئی موجودہ پونچھ، کشمیر میں پہنچی جہاں کے باسیوں نے اسکے خلاف علم جہاد بلند کیا اور سینکڑوں لوگوں نے جام شہادت نوش کیا۔ منگ اور پلندری آزاد کشمیر کے گردونواح میں لوگوں پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اس پر تاریخ گواہ ہے۔ وہاں سے ڈوگرہ خطہ کوہسار میں داخل ہوئے اور انکا پہلا پڑاؤ پلندری کے بالمقابل کہوٹہ کا میدان پڑا جہاں سے ہوتے ہوئے وہ ملکہ کوہسار مری میں داخل ہوئے۔ ڈوگروں کے خلاف اس مزاحمت میں یک بستہ سب سے پہلے کہوٹہ کا ڈھونڈ عباسی قبیلہ تھا جو کہ اب جسکم عباسی شاّخ میں ضم ہوچکا۔ تاریخ اقوام پونچھ میں محمد دین فوق نے اس مزاحمت کی عکاسی کی ہے جنکے مطابق 1837ء کے اوائل میں ڈوگرہ سکھوں اور ڈھونڈ عباسیوں کے درمیان مزاحمت میں کئی ہزار ڈھونڈ عباسیوں کو شہید کیا گیا، سینکڑوں دیہات جلائے گئے ، ہزاروں کی تعداد میں مال مویشی اور املاک کو ہتھیالیا گیا۔ ڈوگرہ زمانے میں ڈھونڈ عباسی قبیلہ کو باغی قرار دے کر ان پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اس پر تاریخ گواہ ہے۔ اسی بناء پر کہوٹہ کے ڈھونڈ عباسیوں نے ڈوگرہ سرکار کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے خود کو اپنے یکجدی جسکم عباسیوں کی نسبت جسکم ڈھونڈ کہا تاکہ ڈوگرہ سرکار کے ظلم سے کچھ افاقہ ہو اور کہوٹہ کا یہ صحیح النسب ڈھونڈ عباسی قبیلہ اب جسکم عباسیوں میں ضم ہوکر اپنی شناخت کھوچکا ہے. 


کہوٹہ سے فراغت کے بعد ڈوگروں نے ملکہ کوہسار مری کا رخ کیا جہاں پر ڈوگروں کو شدید مزاحمت اور جنگی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ مری میں ڈوگرہ اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں بلکل ناکام رہے۔ ڈوگروں کے خلاف کوہ مری میں ڈھونڈ عباسی قبیلہ کے روحانی بزرگ حضرت حافظ سراج الدین المعروف پیر ملک سورج اولیاء رح پوٹھہ شریف، مری کی درگاہ اسیران آزادی کا بیس کیمپ قرار پائی اور پورے خطہ کوہسار میں ڈوگروں کے خلاف اعلان جہاد کا اعلان کردیا گیا اور انکے خلاف گوریلا کاروائیوں کا آغاز شروع ہوا۔ دونوں فریقین کو سخت جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ ڈوگرہ سرکار نے ڈھونڈ عباسی قبیلے کے مجاہدین کے سر کی قیمت اس وقت ایک روپیہ مختص کردی جو کہ کم ہوتے ہوتے چار آنے تک رہی، انکی املاک و شدید نقصان پہنچایا گیا، مقامی لوگ قریب کے پہاڑوں پر جاکر اقامت پذیں ہوئے جوکہ عملا ڈوگروں کے مظالم سے بچنے کے لیے ایک محفوِظ پناہ گائیں تصور کی جاتی تھی ۔ اس سلسلے میں ڈوگروں کے خلاف معرکہ دیول، مری بڑا اہمیت کا حامل ہے جہاں ڈھونڈ عباسی قبیلے کی شاخ رتنال ڈھونڈ نے ڈوگروں کے خلاف علم جہاد بلند کیا، دیول کے مقام پر ڈوگرہ کمانڈر ہری سنگھ نلوا نے اپنا قلعہ تعمیر کرنا چاہا مگر ڈھونڈ عباسیوں نے اسکو وہاں اپنا تسلط قائم نہیں کرنے دیا۔ خطہ کوہسار و مشرقی ہزارہ سرکل بکوٹ اور سرکل لورہ اس وقت قبائلی حیثیت سے ملک ڈھونڈ کہلاتا تھا لہذا ڈوگروں کے خلاف گوریلا کاروائیوں کا آغاز عمل میں لایا گیا یہاں تک کہ ہری سنگھ نلوا دیول چھوڑ کر ہری پور ہزارہ جا پہنچا اور وہاں اپنا بیس کیمپ قائم کیا۔ موجودہ ہری پور ہزارہ کا نام ہری سنگھ نلوا کے نام پر ہی رکھا گیا تھا۔ اسکے علاوہ بھی 1831ء میں چونکہ ڈھونڈ عباسی قبیلہ مسلکا سید احمد شہید بریلوی کے معتقد تھے لہذا  1831ء میں بھی معرکہ بالاکوٹ میں سید احمد شہید اور پیر آف پلاسی محمد علی شاہ کے شانہ بشانہ ڈھونڈ عباسیوں نے ڈوگرہ سکھوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے ۔ اسی طرح خطہ پونچھ موجودہ آزاد کشمیر ضلع باغ و مضافات میں چندال ڈھونڈ عباسیوں نے ڈوگروں کے خلاف علم جہاد بلند کیا جس میں مجاہدین سیسر بڑی شہرت کے حامل رہے ہیں جنہوں نے ڈوگروں کو پونچھ میں تگنی کا ناچ نچائے رکھا ۔ العرض ، ڈوگروں کو ملکہ کوہسار میں ایسا تگنی کا ناچ نچوایا گیا کہ تنگ آکر ڈوگروں نے 1850ء کے قریب خطہ کوہسار و مشرقی ہزارہ کو مکمل طور پر انگریزوں کے سپرد کرکہ خطہ کوہسار کے بدلے بھمبر و میرپور کے علاقے کشمیر میں شامل کرلیے اور یوں خطہ کوہسار جو کبھی پونچھ، کشمیر کا حصہ تھا ہمیشہ کے لیے کشمیر کو خیرآباد کہہ گیا۔


انگریز سامراج جب ملکہ کوہسار پر قابض ہوئے تو انکے خلاف بھی ڈھونڈ عباسی قبیلہ معرکہ آراء ہوا بلکہ پورے شمالی ہند سے صرف اور صرف کوہسار کے ڈھونڈ عباسی قبیلے اور گلیات کے کڑلال قبیلے نے انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرکہ عملا جہاد کیا ہے. 1857ء میں جب جنگ آزادی کے شعلے ملکہ کوہسار مری میں داخل ہوئے تو فخر کوہسار و خاندان عباسیہ سردار شیر باز خان عباسی شہید کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف مسلح علم جہاد بلند کیا گیا۔ ملوٹ ڈھونڈان، کشمیری بازار مری سے ڈھونڈ عباسی قبیلے کی رتنال ڈھونڈ شاخ کے بہادر سپوت شیر باز خان عباسی ، مری کے مضافاتی علاقے بیروٹ سے سردار لالی خان عباسی اور پونچھ موجودہ ضلع باغ آزاد کشمیر کے سردار ریشم خان عباسی اور گلیات کے سردار حسن خان کڑلال کا نام تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا جنہوں نے قلت وسائل کے باوجود وقت کے فرعون کے خلاف اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اعلان بغاوت کیا۔ 1857ء میں اسی جرم کی پاداش میں سردار شیر باز خان عباسی کو انکے فرزندان اور متعدد رفقاء کے سمیت ایجنسی گراؤنڈ مری میں توپ کے آگے باندھ کر اڑایا گیا اور یوں اسیران آزادی نے جام شہادت نوش کیا جسکی گوائی آج کوہسار کے بلند پہاڑ اور خوبصورت وادیاں آزادی کی سانس لیتے ہوئے دے رہی ہیں۔ انگریزوں نے انتقام کے طور پر ڈھونڈ عباسی قبیلے پر ہر طرح کے سرکاری و دیگر معاملات کے دروازے بند کردیے، انکی املاک کو ضبط کرلیا گیا اور انکے خلاف انتقامی کاروائیوں کے سلسلے کا جو اغاز کیا گیا اس پر تاریخ کے اوراق گواہ ہیں۔ سیاسی طور پر اس قبیلے کو کمزور کرنے اور جمیعت العباسیین کو منتشر کرنے کے لیے خطہ کوہسار کو پنجاب اور سرحد میں ضم کروایا گیا تاکہ یہ قبیلہ سرکاری و سیاسی سطح پر ایک نا ہوسکے۔ یہ پابندی 1914ء تک برقرار رہی۔ یہاں پر یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ 1857ء میں موجودہ پورے صوبہ پنجاب سے صرف 2 جگہوں پر انگریزوں کے خلاف علم جہاد بلند ہوا جس میں سے ایک اوکاڑہ کے رائے احمد خان کھرل شہید اور دوسرا مری کے ڈھونڈ عباسی قبیلے کے سردار شیر باز خان عباسی شہید کا نام روز روشن کی طرف عیاں نظر آتا ہے۔ 


جب تحریک آزادی پاکستان شروع ہوئی تو کوہسار و گلیات میں ایک ہی نعرہ گونجتا تھا کہ 

"منڈیاں کپاساں پر پاکستان بناساں" (پہاڑی زبان)

(گردنیں کٹوائیں گے مگر پاکستان ضرور بنائیں گے) 

آزادی کے متوالوں نے قائد اعظم اور مسلم لیگ کا بھرپور ساتھ دیا اور یوں 14 اگست 1947ء کو ملک پاکستان معرض وجود میں آگیا اور ملکہ کوہسار ہمیشہ کے لیے جابروں کے ظلم و ستم سے آزاد ہوگیا جوکہ آج ملک پاکستان کے ایک معروف سیاحتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ خطہ کوہسار کی ان حسین وادیوں اور دلکش پہاڑوں کی آزادی کے پیچھے ہزاروں داستانیں روپوش، ہزاروں مقامی افراد و بالخصوص ڈھونڈ عباسی قبیلہ کا ایک بڑا تاریخی کردار رہا ہے اور کیوں نا ہو کہ بقول علامہ اقبال رح 


فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی 

یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی 


#جیئے_ہزاروں_سال_کوہسار 

#پاکستان_پائندہ_باد

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تاریخ خاندان عباسیہ شمالی پاکستان

سپہ سالار غیاث الدین ضراب شاہ

Dhund Abbasi History